30 دسمبر 2011 - 20:30

اے نئے سال میں شرمندہ ہوں اس منظر میں ایسے ماحول میں اب چپ بھی نہیں رہ سکتا اور خوش آمدید کے الفاظ نہیں کہہ سکتا.

ابنا: اے نئے سال کروں کیسے ترا استقبال؟ خون ہی خون مرے دیس کی سب گلیوں میں ہر طرف لاشوں کے انبار نظر آتے ہیں موت رقصاں ہے مرے دیس کے ہر کونے پر ظلم ہی ظلم ہے جس سمت نظر اٹھ جائے چار سو دہشت و وحشت کا بسیرا ہے یہاں امن ان دیکھا سا اک خواب بنا جاتا ہے ہے بہت تنگ مرے دیس کا ہر اک مفلس اس قدر تنگ کہ اب موت بھی مہنگی ہے اسے عرصہ ظلم کشادہ ہے یہاں اتنا کہ اب کسی مظلوم کو انصاف کی امید نہیں خود کشوں کے ہے نشانے پہ ہر اک امن پسند زندگی اب تو کسی شخص کی محفوظ نہیں  ہر طرف راج ہے افلاس کا اور غربت کا  ہے جہالت کا بھی آسیب یہاں سایہ فگن ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا یہاں صبر و شعور ظلم ہو، قتل ہو، دہشت ہو کہ ہو استحصال ہو کرپشن یا جہالت یا ہو طبقاتی جنگ ہو تعصب یا عداوت یا ہو نفرت یا انا مذہبی رہنما کفر قسیمان یہاں ہے ہوس اہل سیاست کا وطیرہ و شغف اے نئے سال میں شرمندہ ہوں اس منظر میں ایسے ماحول میں اب چپ بھی نہیں رہ سکتا اور خوش آمدید کے الفاظ نہیں کہہ سکتا .......

/169